نئی دہلی،31اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو سوشل میڈیا کمپنی فیس بک کی اس درخواست کو قبول کر لیا، جس میں اس نے ایک جج کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔اس حکم میں فیس بک سے کہا گیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں یوگا گرو رام دیو کے خلاف ہتک آمیز الزامات کی ویڈیو کے لنک کو ہٹائے، بلاک کرے یا غیر فعال کرے۔جسٹس ایس مرلی دھر اور تلوت سنگھ کی بنچ نے اس معاملے کو آخری سماعت کے لئے سات دسمبر کو درج کیا۔بنچ نے امید ظاہر کی کہ اس دن دلیلیں پوری ہو جائیں گی۔عدالت نے کہا کہ وہ کوئی بھی عبوری حکم جاری نہیں کرے گی، اگرچہ اس وقت تک ایک جج کی طرف سے 23 اکتوبر کو دئے حکم کو زیر التواء رکھا جائے گا، کیونکہ اپیل آخری سماعت کے لئے زیر التواء ہے۔فیس بک کے جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے بنچ سے کہا کہ اپیل زیر التواء رہنے تک رام دیو کو اس سلسلے میں ہتک آمیز کارروائی شروع نہ کرنے کی ہدایت دی جائے۔اس پر رام دیو کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ چونکہ معاملہ کی آخری سماعت سات دسمبر کو ہونی ہے، اس لئے ان کے موکل کی طرف سے اس درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف ہتک عزت کی کوئی کارروائی نہیں شروع کی جائے گی۔گوگل کے پلیٹ فارم یو ٹیوب اور ٹوئٹر نے بھی عدالت سے کہا کہ ان کی ہتک عزت کی کارروائی سے راحت دی جائے۔ان سے بھی کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس ویڈیو تک رسائی کو ختم کیا جائے۔ان کی زبانی درخواست کے جواب میں بنچ نے گوگل اور دیگر سے کہا کہ پہلے وہ اپنی عرضی داخل کریں۔